Taharah, ladies issue's
سوال کی تفصیل:
کیا حائضہ قرآن کریم کی تلاوت کر سکتی ہے؟
جواب:
جواب: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم الحمد لله وحده، والصلاة والسلام على من لا نبي بعده۔
حائضہ کے لیے قرآن کی تلاوت (چاہے دیکھ کر ہو یا زبانی یاد سے) جائز نہیں۔تعلیمی ضرورت کی صورت میں حائضہ عورت کے لیے کچھ گنجائشیں فقہاء نے بیان کی ہیں۔ اگر عورت حافظہ ہو یا معلمہ ہو اور اسے قرآن کریم بھول جانے کا خدشہ ہو، یا طالبات کو پڑھانا ضروری ہو، تو وہ تلاوت کے بغیر درج ذیل طریقوں سے قرآن یاد رکھ سکتی ہے۔ پہلی گنجائش یہ ہے کہ معلمہ ایک ایک کلمہ توڑ کر پڑھائے؛ مثلاً الْحَمْدُ کہہ کر سانس توڑ دے، پھر لِلّٰهِ پر دوبارہ سانس لے، پھر رَبِّ اور الْعَالَمِيْنَ اسی طرح الگ الگ ادا کرے، تاکہ مکمل آیت کی تلاوت نہ ہو بلکہ صرف تعلیم کا عمل باقی رہے۔ دوسری سہولت یہ ہے کہ عورت مصحف کو کسی حائل، مثلاً پاک کپڑے یا دستانے کے ذریعے پکڑ کر اس میں دیکھتے ہوئے زبان سے ادا کیے بغیر صرف دل ہی دل میں آیات دہراتی رہے تاکہ سبق یاد کرلے۔ تیسری گنجائش یہ ہے کہ قرآنِ مجید کا وہ ترجمہ جو آیات سے الگ لکھا گیا ہو، اسے پڑھا جا سکتا ہے کیونکہ یہ قرآن کی تلاوت کے حکم میں نہیں آتا۔ چوتھی سہولت یہ ہے کہ وہ آیات جو دعا یا ذکر کے معنی رکھتی ہیں، انہیں دعا یا ذکر کی نیت سے پڑھا جا سکتا ہے، جیسے: رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً (البقرہ: 201)۔ اور آخر میںیہ بھی کہ قرآن کریم کو سننا جائز ہے؛ وہ کسی غیر حائضہ قاریہ یا طالبہ سے قرآن سن کر اپنا سبق یادکر سکتی ہے۔
دلائل: حدیث شریف میں ہے:
حدثنا عبد الله بن محمد بن عبد العزيز نا داود بن رشيد نا إسماعيل بن عياش عن موسى بن عقبة عن نافع عن بن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن.
)سنن الدارقطني، باب في النهي للجنب والحائض عن قراءة القرآن ، ج: ۱، صفحہ: ۱۱۷، ط: دار المعرفة - بيروت (
یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائضہ (حیض والی عورت) اور جُنبی (جس پر غسل فرض ہو) قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔
وفیہ ایضاً:
حدثنا علي بن حجر و الحسن بن عرفة قالا حدثنا إسمعيل بن عياش عن موسى بن عقبة عن نافع عن ابن عمر : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال لا تقرأ الحائض ولا الجنب شيئا من القرآن .
)سنن الترمذي، باب ما جاء في الجنب والحائض : أنهما لا يقرأن القرآن ، ج: ۱، صفحہ: ۲۳۶، رقم الحدیث: ۱۳۱، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت(
یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حائضہ (حیض والی عورت) اور جُنبی (جس پر غسل فرض ہو) قرآن میں سے کچھ بھی نہ پڑھیں۔
وفیہ ایضاً:
ما حدثنا ابن أبي داود قال: ثنا عبد الله بن يوسف قال: ثنا إسماعيل بن عياش , عن موسى بن عقبة , عن نافع , عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «لا يقرأ الجنب ولا الحائض القرآن».
) شرح معاني الآثار، باب ذكر الجنب الحائض والذي ليس على وضوء , وقراءتهم القرآن، ج: ۱، صفحہ: ۸۸،طقم الحدیث:۵۶۸، ط: عالم الكتب(
یعنی یعنی حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جُنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھیں۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
و إذا حاضت المعلمة فينبغي لها أن تعلم الصبيان كلمة كلمة وتقطع بين الكلمتين، ولايكره لها التهجي بالقرآن. كذا في المحيط.
)الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة،الأحكام التي يشترك فيها الحيض والنفاس، ج: ۱، صفحہ: ۳۸، ط: دارالفکر -بیروت(
یعنی اور جب معلّمہ (استانی) کو حیض آ جائے تو اس کے لیے مناسب ہے کہ وہ بچوں کو ایک ایک کلمہ (الگ الگ) کر کے پڑھائے اور دو کلموں کے درمیان سانس توڑے، اور قرآن کے حروف کو ہجّے کر کے پڑھنا (یعنی توڑ کر الف، لام، میم وغیرہ کہنا) اس کے لیے مکروہ نہیں ہے۔ جیسا کہ 'المحیط' میں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
(و قراءة قرآن ) أي و لو دون آية من المركبات لا المفردات؛ لأنه جوز للحائض المعلمة تعليمه كلمةً كلمةً، كما قدمناه وكالقرآن التوراة والإنجيل والزبور ... (ومسه) أي القرآن ولو في لوح أو درهم أو حائط، لكن لا يمنع إلا من مس المكتوب، بخلاف المصحف؛ فلايجوز مس الجلد وموضع البياض منه، وقال بعضهم: يجوز، وهذا أقرب إلى القياس، والمنع أقرب إلى التعظيم، كما في البحر، أي والصحيح المنع كما نذكره، ومثل القرآن سائر الكتب السماوية كما قدمناه عن القهستاني وغيره‘‘.
)کتاب الطہارۃ، باب الحیض، ج: ۱، صفحہ: ۲۹۳، ط: ایچ، ایم، سعید (
یعنی(دوسرا ممنوع کام) قرآن کی تلاوت ہے۔ یعنی اگرچہ ایک آیت سے کم (مرکب الفاظ کی شکل میں) ہی کیوں نہ ہو، نہ کہ صرف مفرد کلمات (کا پڑھنا)؛ کیونکہ حائضہ معلمہ کو ایک ایک کلمہ سکھانے کی اجازت دی گئی ہے، جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں۔ اور قرآن کے حکم میں تورات، انجیل اور زبور بھی ہیں۔... (تیسرا ممنوع کام) اور اسے (قرآن کو) چھونا۔ یعنی قرآن کو، اگرچہ وہ کسی تختی، سکے، یا دیوار پر ہی (لکھا) ہو۔ لیکن ممانعت صرف مکتوب حصے کو چھونے کی ہے، بخلاف مصحف (مکمل کتاب) کے؛ اس کا نہ تو جلد چھونا جائز ہے اور نہ ہی خالی جگہ (بیاض)۔ اور بعض نے کہا کہ یہ جائز ہے، اور یہ قیاس کے قریب ہے، جبکہ منع تعظیم کے زیادہ قریب ہے، جیسا کہ 'البحر' میں ہے، اور صحیح قول منع کا ہی ہے، جیسا کہ ہم ذکر کریں گے۔ اور قرآن کی طرح دوسری تمام آسمانی کتب (کو چھونا بھی) منع ہے، جیسا کہ ہم 'القهستانی' وغیرہ سے نقل کر چکے ہیں۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
ولا يكره للجنب والحائض والنفساء النظر في المصحف. هكذا في الجوهرة النيرة ويكره للجنب والحائض أن يكتبا الكتاب الذي في بعض سطوره آية من القرآن وإن كانا لا يقرآن القرآن والجنب لا يكتب القرآن وإن كانت الصحيفة على الأرض ولا يضع يده عليها وإن كان ما دون الآية وقال محمد أحب إلي أن لا يكتب وبه أخذ مشايخ بخارى. هكذا في الذخيرة
(کتاب الطهارۃ، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، ج:1، ص:39، ط:مکتبہ رشیدیہ (
یعنی جنبی، حائض اور نفساء (حیض یا نفاس والی عورت) کے لیے مصحف کو دیکھنا مکروہ نہیں۔ جیسا کہ ‘الجوهرة النیرة’ میں بیان ہوا ہے۔ اور یہ مکروہ ہے کہ جنبی یا حائض وہ کتاب لکھیں جس کی کسی سطر میں قرآن کی آیت موجود ہو، چاہے وہ قرآن پڑھ نہ رہے ہوں۔ جنبی قرآن نہیں لکھ سکتا، چاہے وہ صفحہ زمین پر پڑا ہو، اور ہاتھ بھی نہ لگائے، چاہے آیت کے نیچے کا حصہ ہو۔ اور محمد نے کہا: میرے نزدیک بہتر ہے کہ نہ لکھا جائے، اور بخارا کے مشائخ نے اسی طریقے کو اختیار کیا۔ جیسا کہ ‘الذخيرة’ میں بھی بیان ہوا ہے۔
فقط والله أعلم
ٹوکن نمبر:
موضوعات | Categories
-
كتاب البيوع (0)
-
كتاب الزكاة (0)
-
كتاب الصلاة (0)
-
كتاب الصوم (0)
-
كتاب الطلاق (0)
-
كتاب الطهارة (0)
-
كتاب النكاح (0)
-
كتاب الوقف (0)
